Jan 4, 2026

عمیری توں میرے نال نکاح کر لے

 ’عمیری توں میرے نال نکاح کر لے‘

 

عمیری توں میرے نال نکاح کر لے؟
 

مگر عمیری نکاح کیسے کرے؟

نکاح تو مرد کرتا ہے۔

اور عمیری… عمیری تو نامرد ہے۔


جی ہاں، آپ نے درست پڑھا۔ عمیری جیسے لوگ، جن کی خصلتیں ذمہ داری، غیرت، حوصلے اور کردار سے خالی ہوں، وہ نکاح کے اہل نہیں ہوتے۔ مرد ہونا صرف جنس کا نام نہیں، یہ ایک مقام ہے، ایک ذمہ داری ہے، ایک امتحان ہے۔ اس مرتبے پر صرف وہی فائز ہو سکتا ہے جو باپ بننے کا حوصلہ اور شوہر بننے کی اہلیت رکھتا ہو۔


اللہ نے مرد کے ماتھے پر بیٹی کی صورت جھومر اور بیٹے کی شکل میں تاج سجانا لکھا ہے۔ مگر یاد رکھیے، یہ تاج ہر سر کے لیے نہیں ہوتا۔ اس کے لیے مضبوط سر، مضبوط سوچ اور مضبوط کردار چاہیے۔ عمیری جیسے نامرد اس بوجھ کو اٹھا ہی نہیں سکتے۔


مرد وہ ہے جو عورت کو وقتی تسکین نہیں، مستقل تحفظ دے۔

مرد وہ ہے جو خواہش کو قانون میں قید کرے، نہ کہ رشتے کو خواہش کا غلام بنائے۔

مرد وہ ہے جو مشکل وقت میں بھاگے نہیں، ڈٹ کر کھڑا رہے۔

مرد وہ ہے جو نکاح کو بوجھ نہیں، عبادت سمجھے۔


صد افسوس اس معاشرے کی سوچ پر جو باپ اور بھائیوں کو کوستا ہے، مگر خود اخلاقی زوال کا شکار ہے۔ ذرا خود سے پوچھیں، کیا آپ اپنی بہن کی شادی سے پہلے ہونے والے داماد سے یہ سوال کریں گے کہ کیا وہ اسے “خوش” رکھ سکے گا؟

یا کیا آپ نکاح سے پہلے دونوں کو “ٹیسٹ” کرنے کی اجازت دیں گے تاکہ بعد میں کسی عمیری جیسے نامرد کی ضرورت نہ پڑے؟


نکاح اعتماد پر ہوتا ہے، تجربے پر نہیں۔

عزت عہد سے بچتی ہے، آزمائش سے نہیں۔


جہاں تک بات خواہشات کی ہے، تو خواہش کو قابو میں رکھنا اور حلال طریقے سے پورا کرنا بھی فرض ہے، جیسے باقی فرائض۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر خواہش پوری بھی ہو۔ اگر کسی کی خواہش حج یا عمرہ کرنے کی ہو اور جیب میں ایک روپیہ بھی نہ ہو، تو کیا کسی بینک میں ڈاکہ ڈالنا جائز ہو جائے گا؟

یا اگر آئسکریم کھانے کا دل ہو اور گھر میں روٹی بھی نہ ہو، تو کیا دوسروں کی آئسکریم چاٹ لینا درست ہو گا؟


کیا یہی معیار ہے خواہش پوری کرنے کا؟


خواہش اگر دلیل بن جائے، تو جرم بھی عبادت لگنے لگتا ہے۔

اور یہی سوچ عمیری جیسے نامردوں کو جنم دیتی ہے۔


گھر کی حالت دیکھ کر ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس عورت کی کون سی خواہشیں پوری نہیں ہو رہیں۔ اب آگے وہ جانے، اس کی خواہشیں اور ان خواہشوں کو پورا کرنے والے نامرد۔

آپ بس اپنی خواہش بازار میں لے آئیں، پھر دیکھیں کتنے عمیری جیسے نامرد منہ کھولے تیار بیٹھے ہوں گے ۔ بغیر ذمہ داری، بغیر نام، بغیر نکاح۔


مگر یاد رکھیے،

مرد وہ نہیں جو خواہش پوری کرے،

مرد وہ ہے جو عورت کو عزت دے، نام دے، اور رشتہ دے۔

No comments:

Post a Comment

Your feedback is warmly welcomed:
Contac us at: info@pakistanprobe.com

Popular Posts